Wednesday, May 13, 2020

PTI came to power because of Jahangir Tareen, Fawad Chaudhry

جہانگیر ترین کی وجہ سے تحریک انصاف اقتدار میں آئی، فواد چوہدری

جہانگیر ترین کی وجہ سے تحریک انصاف اقتدار میں آئی، فواد چوہدری 



وفاقی وزیر نے چینی بحران پر جہانگیر ترین اور خسرو بختیار سمیت پی ٹی آئی ارکان کو بے قصور قرار دیا


وفاقی وزیر برائے سائنس اینڈ ٹیکنالوجی فواد چوہدری نے کہا ہے کہ جہانگیر ترین عمران خان کے قریبی لوگوں میں سے ہیں اور ان ہی کی وجہ سے تحریک انصاف اقتدار میں آئی ہے۔ ایک انٹرویومیں فواد چوہدری نے چینی بحران پر جہانگیر ترین اور خسرو بختیار سمیت پی ٹی آئی ارکان کو بے قصور قرار دیا اور کہا کہ سبسڈی دینا پالیسی فیصلہ تھا اور جس طرح ایف آئی اے کی ابتدائی رپورٹ کو پیش کیا گیا وہ نا مناسب تھا۔
انہوں نے کہا کہ چینی پر 80 فیصد سبسڈی تو مسلم لیگ ن کے دور میں دی گئی تاہم ایف آئی اے رپورٹ کو جس انداز میں پیش کیا گیا اس سے یہ لگا کہ اس معاملے میں سب ہمارے ہی لوگ ملوث ہیں۔فواد چوہدری نے کہاکہ ایف آئی اے کی ابتدائی رپورٹ پر کوئی بھی فیصلہ کرنے سے پہلے فورنزک رپورٹ کا انتظار کرنا چاہیے تھا کیونکہ ابتدائی رپورٹ کو جس انداز میں پیش کیا گیا اس سے حکومت کو نقصان ہوا ہے۔
انہوں نے کہا کہ جہانگیر ترین کی پارٹی کیلئے گراں قدر خدمات ہیں اور ان کا شمار پارٹی کے ان لوگوں میں ہوتا ہے جن کی وجہ سے تحریک انصاف اقتدار میں آئی ہے، سمجھتا ہوں کہ وہ چند لوگ جن کی وجہ سے آج تحریک انصاف اقتدار میں ہے ان میں جہانگیر ترین شامل ہیں اور انہوں نے 2013 سے پارٹی کے لیے بہت کام کیا ہے، میرے خیال میں وہ وزیراعظم کے قریب ترین لوگوں میں سے ہیں۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ جہانگیر ترین ہی عمران خان کو سب سے زیادہ جانتے ہیں، اس لیے وہ بھی اس معاملے کی وجہ سے اپنے تعلقات عمران خان سے خراب نہیں کریں گے، عمران خان میں یہ خرابی کہہ لیں یا کچھ بھی، اگر کوئی کرپشن میں ملوث ہوا تو وزیراعظم اس کا ساتھ نہیں دیں گے اور یہ بات جہانگیر ترین بھی جانتے ہیں اس لیے مجھے نہیں لگتا کہ وہ اپنے تعلقات عمران خان سے خراب کریں گے، ان کے تعلقات ٹھیک رہیں گے۔
احتساب سے متعلق فواد چوہدری نے کہا کہ احتساب کے وعدے پر تحریک انصاف کے کارکن اور وزیراعظم عمران خان مطمئن نہیں ہیں کیونکہ وہ احتساب کا وعدہ کرکے آئے تھے، ہم سمجھتے ہیں کہ جو ٹھوس کیسز ہیں ان کا فیصلہ ہو جانا چاہیے، پیسے واپس آنے چاہئیں اور ان کو سزائیں ملنی چاہئیں لیکن ایسا نہیں ہوا اور اب لوگوں کی دلچسپی ختم ہو گئی ہے اور عوام کو اگر کوئی امید ہے تو وہ صرف عمران خان سے ہی ہے۔
وفاقی وزیر نے سابق وزیراعظم نواز شریف کی وطن واپسی کو تحریک انصاف کی حکومت کیلئے ایک بڑا چیلنج قرار دیا اور کہا کہ اس وقت حکومت کی تمام تر توجہ کورونا وائرس پر ہے اسی وجہ سے نواز شریف کے کیس پر حکومت کی کوئی توجہ نظر نہیں آرہی، میں خود نواز شریف کو ملک سے باہر بھیجنے کے خلاف تھا لیکن اب ان کو واپس لانا بھی ایک چیلنج ہوگا۔

Boards of education across Punjab have decided not to refund admission fees

پنجاب بھر کے تعلیمی بورڈز نے داخلہ فیسیں واپس نہ کرنے کا فیصلہ کرلیا

پنجاب بھر کے تعلیمی بورڈز نے داخلہ فیسیں واپس نہ کرنے کا فیصلہ کرلیا



امتحانات کے لیےانتظامات تو کیے گئے، اس پر کافی خرچہ آیا، بچوں کو نتائج بھی جاری کرنے ہیں اس پر بھی اخراجات ہونگے، چیئرمین پی بی سی سی ریاض ہاشمی


 پنجاب بھر کے تعلیمی بورڈز نے داخلی فیسیں واپس نہ کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ اس حوالے سے بات کرتے ہوئے چیئرمین پی بی سی سی ریاض ہاشمی کا کہنا تھا کہ امتحانات کے لیےانتظامات تو کیے گئے، اس پر کافی خرچہ آیا، بچوں کو نتائج بھی جاری کرنے ہیں اس پر بھی اخراجات ہونگے۔ اس لئے ان تمام اخراجات کو مدنظر رکھتے ہوئے داخلہ فیس واپس نہ کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
چونکہ وفاقی حکومت کی جانب سے بورڈ امتحانات منسوخ کرنے کا اعلان کیا گیا تھا، اس اعلان کے بعد لوگوں کی جانب سے امید کی جا رہی تھی کہ شاید ان کی داخلہ فیس واپس کر دی جائے گی، لیکن اب پنجاب کے تمام بورڈز نے اعلان کر دیا ہے کہ ایسا ممکن نہیں۔ اس بارے میں بتایا گیا ہے کہ پنجاب کا کوئی بھی بورڈ داخلہ فیس واپس نہیں کرے گا، نہم، دہم گیارہویں اور بارہویں کے امتحانات کے لیے جمع کرائی گئی داخلہ فیس واپس نہیں ہوگی، دسویں جماعت کے امتحانات لے لیے گئے ہیں لیکن پریکٹیکل نہیں ہوئے، نویں، گیارہویں اور بارہویں کے امتحانات کو منسوخ کیا گیا، امتحانات کے لیے 41 لاکھ بچوں نے داخلہ جمع کرایا، صوبے کے نو تعلیمی بورڈز کو کروڑوں روپے داخلہ فیس وصول ہوئی ہے۔
لیکن جب ان تعلیمی بورڈز نے فیس واپس کرنے کا مطالبہ کیا گیا تو ان کی جانب سے یہ کہتے ہوئے انکار کر دیا گیا ہے کہ امتحانات کے لیےانتظامات تو کیے گئے، اس پر کافی خرچہ آیا، بچوں کو نتائج بھی جاری کرنے ہیں اس پر بھی اخراجات ہونگے۔ جہاں ایک طرف امتحانات کی منسوخی اور فیس کا معاملہ چل رہا ہے، وہاں ہی دوسری جانب پنجاب ٹیچرز یونین نے سکولوں کو مزید 15 جولائی تک بند رکھنے اور بورڈ امتحانات منسوخ کرنے کے فیصلے پر نظرثانی کا مطالبہ کردیا۔

Imran Khan begged Chaudhry Nisar for hours to join the party

عمران خان نے پارٹی میں شمولیت کے لیے کئی گھنٹوں تک چوہدری نثار کی منتیں ..

عمران خان نے پارٹی میں شمولیت کے لیے کئی گھنٹوں تک چوہدری نثار کی منتیں کیں



عمران خان نے کہا پارٹی میں آئیں،حکومت میں جو مرضی پوزیشن لینا چاہیں وہ لیں لیکن چوہدری نثار نے پیشکش اس بنیاد پر ٹھکرائی کہ وہ اس سٹیج پر نہیں بیٹھیں گےجہاں سے نواز شریف کو گالیاں دی جاتی ہوں۔ سلیم صافی


معروف کالم نگار اور صحافی سلیم صافی اپنے حالیہ کالم میں لکھتے ہیں کہ کہ 2014 دھرنے کے پیچھے اصل قوتوں کا نام نام نہیں بتایا جا سکتا تھا اس لئے جاوید لطیف نے سارا ملبہ چوہدری نثار علی خان پر ڈالنے کی کوشش کی۔انھوں نے یہ غلط تاثر دیا کہ چوہدری نثار درپردہ عمران خان سے ملے ہوئے تھے اس وقت چوہدری صاحب سے میں کئی اہم کرداروں کے ساتھ نہ صرف رابطے میں تھا بلکہ روزانہ پتھراؤ اور گالیوں کی زد میں آنے والے دھرنے کے متاثرین کی صف اول میں بھی شامل تھا۔
حقیقت تو یہ ہے کہ چوہدری نثار عمران خان اور قادری صاحب کے دھرنے کو آبپارہ سے آگے جانے کی اجازت دینے کے حق میں نہیں تھے۔چوہدری نثار نے عمران خان کو خبردار کیا تھا کہ اگر انہوں نے آگے بڑھنے کی کوشش کی تو وہ ان سے آہنی ہاتھوں کے ساتھ نمٹیں گے۔
عمران خان جانتے کے تھے کہ چوہدری نثار ماننے والے نہیں،اب وہ پٹائی کروائیں گے اس لئے ان کو بائی پاس کرکے راتوں رات انہوں نے اس وقت کے سیکرٹری داخلہ کے ذریعے پولیس کو یہ آرڈر جاری کروا دیا کہ وہ کارروائی روک کر دھرنا دینے والوں کو ڈی چوک تک آنے دیں۔
چوہدری نثار صاحب ڈی چوک تک دھرنے کو آنے دینے پر اتنے برہم تھے کہ استعفی دینے والے تھے لیکن انہیں میجر عامر جیسے دوستوں نے منع کیا۔چوہدری نثار انا پرست اور ضدی ہیں جس وجہ سے انہیں سیاسی طور پر بہت نقصان ہوا لیکن نواز شریف کے خلاف کسی سازش کا کبھی حصہ نہیں رہے۔سلیم صافی نے مزید کہا کہ میں ذاتی طور پر جانتا ہوں کے الیکشن سے قبل جہاں مقتدر حلقوں کا دباؤ تھا وہیں عمران خان نے کئی گھنٹے تک ان کی منتیں کیں کہ وہ ان کی پارٹی میں آجائیں اور ان کے بعد پارٹی اور حکومت دونوں میں جو بھی پوزیشن لینا چاہیں لے لیں۔
اگر چوہدری نثار اس وقت پیشکش قبول کرتے تو آج عمران خان کے بعد دوسری طاقتور شخصیت ہوتے۔لیکن چوہدری نثار نے یہ سب پیشکش اس بنیاد پر ٹھکرا دیں گے وہ اس اسٹیج پر نہیں بیٹھ سکتے جہاں سے نواز شریف اور ان کے خاندان کو گالیاں پڑھ رہی ہوں یہی وجہ ہے کہ انتخابات میں ان کو وہی سزا دی گئی جو دیگر مخالف پارٹیوں کے امیدواروں کو دی گئی۔

The one who is not recognized by his mother is the Prime Minister, Shahid Khaqan Abbasi

جس کو ماں نہیں پہچانتی وہ وزیراعظم بنا ہوا ہے,شاہد خاقان عباسی

جس کو ماں نہیں پہچانتی وہ وزیراعظم بنا ہوا ہے,شاہد خاقان عباسی



ہر دو نمبر آدمی وزیراعظم ہاؤس میں ہے، یہ گھٹیا لوگوں کی حکومت ہے، سابق وزیراعظم


جس کو ماں نہیں پہچانتی وہ وزیراعظم بنا ہوا ہے۔ موجود حکومت پر سخت تنقید کرتے ہوئے سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے ایک نجی ٹی وی چینل پر گفتگو کرتے ہوئے موجود حکومت کے خلاف سخت الفاظ استعمال کرتے ہوئے کہا ہے کہ جس کو ماں نہیں پہچانتی وہ وزیراعظم بنا ہوا ہے، ہر دو نمبر آدمی وزیراعظم ہاؤس میں ہے، یہ گھٹیا لوگوں کی حکومت ہے۔
بات کرتے ہوئے ان کا مزید کہنا تھا کہ یہ حکومت ہی ایسی ہے، تمام غیر منتخب لوگ وزیراعظم ہاوس میں بیٹھے ہوئے ہیں، جس شخص کو اس کی ماں نہیں پہچانتی، وہ آج وزیراعظم بن گیا ہے۔
وزیراعظم عمران خان پر مزید تنقید کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ جن لوگوں کو انہوں نے عہدے دئیے ہیں کیا ان لوگوں کو پاکستان کی عوام پہچانتی ہے کہ یہ کون ہے؟ یہ کہاں سے آئے ہیں؟ یہ فیصلے کررہے ہیں اور وزیر گھر میں بیٹھے ہیں۔
شاہد خاقان عباسی نے بات کرتے ہوئے اس بات کا انکشاف کیا ہے کہ سابق ے ڈی جی ایف آئی اے کہتا تھا کہ وزیراعظم اسے اپنے پاس بلا کر کہتے تھے کہ فلاں کے اوپر کیس بناؤ، فلاں کو گندا کر دو۔ شاہد خاقان عباسی کا کہنا تھا کہ نیب کا چیئرمین وزیراعظم ہاؤس کا غلام بنا ہوا ہے، وہ تمام احکامات وہاں سے لیتا ہے۔ شاہد خاقان عباسی کا مزید کہنا تھا کہ یہ حکومت نالائقوں اور چوروں کی حکومت ہے۔ یہ گھٹیا لوگوں کی حکومت ہے۔ میں نے زندگی میں ایسی حکومت نہیں دیکھی۔ یاد رہے کہ یہ تمام گفتگو انہوں نے ایک نجی ٹی وی چینل میں بات کرتے ہوئے کی ہے جہاں ان کا کہنا تھا کہ جس کو ماں نہیں پہچانتی وہ وزیراعظم بنا ہوا ہے، ہر دو نمبر آدمی وزیراعظم ہاؤس میں ہے، یہ گھٹیا لوگوں کی حکومت ہے۔

Tuesday, May 12, 2020

Corona virus situation in Pakistan Date: 12.05.2020


پاکستان میں کرونا وائرس کی صورتحال

ٹوٹل مریض
32,081
نئے مریض
+1,140
اموات
706
صحت یاب
8,555

دنیا بھر میں کرونا وائرس کی صورتحال

ٹوٹل مریض
4,269,200
اموات
287,504
صحت یاب
1,533,808



5,000 pregnant Pakistani women in Dubai have registered for repatriation

دبئی میں موجود 5 ہزار حاملہ پاکستانی خواتین نے وطن واپسی کیلئے رجسٹریشن ..

دبئی میں موجود 5 ہزار حاملہ پاکستانی خواتین نے وطن واپسی کیلئے رجسٹریشن کروالی



2 ہزار بیمار افراد بھی فوری انخلاء کی درخواست کے ساتھ رجسٹریشن کراچکے ہیں جبکہ خواتین کی ایک بڑی تعداد وطن واپسی کرنا چاہتی ہے، دبئی میں موجود پاکستانی قونصل


 چین سے شروع ہونے والے کورونا وائرس نے اس وقت پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لیا ہوا ہے جس کے بعد ہر طرف اس کا خوف پایا جا رہا ہے۔ دنیا کا نظام درہم برہم ہو گیا ہے۔ اسی دوران دنیا بھر میں موجود پاکستانیوں کی کوشش ہے کہ وہ وطن واپسی کر لیں۔ اس بارے میں دبئی میں موجود پاکستانی قونصل نے بتایا ہے کہ دبئی میں موجود 5 ہزار حاملہ پاکستانی خواتین نے وطن واپسی کیلئے رجسٹریشن کروالی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ دبئی سے پاکستانیوں کی ایک بڑی تعداد وطن واپسی کرنا چاہتی ہے۔ ابھی تک 2 ہزار بیمار افراد بھی فوری انخلاء کی درخواست کے ساتھ رجسٹریشن کراچکے ہیں جبکہ خواتین کی ایک بڑی تعداد وطن واپسی کرنا چاہتی ہے۔ قونصل خانے کی جانب سے بتایا گیا ہے کہ دبئی سے 63 ہزار افراد وطن واپسی کرنا چاہتے ہیں، ابتدائی طور پر 6 ہزار افراد کو خصوصی پروازوں کے ذریعے وطن واپس بھیج دیا گیا ہے جبکہ باقی افراد کو بھی بھیجنے کے لئے اقدامات کئے جا رہے ہیں۔
دبئی میں موجود پاکستانی سفارت حکام کی جانب سے اس بات کا ذکر کیا گیا ہے کہ آئندہ مہینے میں اسپیشل فلائٹس کی تعداد میں اضافہ ہو جائے گا جس کے بعد عید الفطر کے بعد تیز رفتاری سے لوگوں کو واپس بھیجنا ممکن ہو جائے گا۔ قونصل خانے کے مطابق نوکریوں سے برخاست ہونے والے 23 ہزار پاکستانی وطن واپسی کے متمنی ہیں، 17 ہزار پاکستانی سیاح ہیں جب کہ زیادہ ترافراد نوکری کی تلاش میں آئے تھے جو کورونا کےسبب نارمل ائیرآپریشن بند ہونے سے دبئی میں پھنس گئے۔ اس وقت دنیا بھر میں لوگوں کو سفری پابندی کی وجہ سے ایسی مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے، تا ہم اس حوالے سے حکومت پاکستان کی جانب سے مراحلہ وار اپنے شہریوں کی وطن واپسی کا سلسلہ جاری ہے۔

Khaqan may have submitted documents related to the Prime Minister to the Sugar Inquiry Commission

شاید خاقان نے  شوگر انکوائری کمیشن میں وزیراعظم سے متعلق دستاویزات ..

شاید خاقان نے شوگر انکوائری کمیشن میں وزیراعظم سے متعلق دستاویزات پیش کر دیں



وزیراعظم عمران خان کو بلانے کیلئے تحقیقاتی ٹیم میں اختلاف پایا جا رہا ہے۔عارف حمید بھٹی


سینئر صحافی عارف حمید بھٹی نے انکشاف کیا ہے کہ شوگر انکوائری کمیشن میں وزیراعظم عمران خان کو بلانے کی باتیں ہورہی ہیں اورتحقیقاتی ٹیم میں اس حوالے سےاختلاف پایا جاتا ہے ۔تفصیلات کے مطابق سینیئر صحافی عارف حمید بھٹی کا شوگر اسکینڈل کی تحقیقات پر گفتگو کرتے ہوئے کہنا تھا کہ اس کی تحقیقات ایک دلچسپ مرحلے میں داخل ہوگئی ہے۔
انہوں نے کہا کہ کمیشن میں ڈی جی ایف آئی اے،ڈی جی اینٹی کرپشن اینڈ انٹیلی جنس بیورو کے افسر احمد کمال شامل ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ عہدیداروں نے ایف بی اے، ایف آئی اے اور اینٹی کرپشن کے ماتحت ٹیمیں شامل ہیں۔انکوائری کمیشن کے سامنے ن لیگ کے رہنما شاہد خاقان عباسی کے پیش ہونے سے متعلق انکشاف کرتے ہوئے عارف حمید بھٹی نے کہا کہ شاید خاقان عباسی نے پیشی سے قبل نواز شریف سے رابطہ کیا اور کہا کہ اب وقت آگیا ہے کہ وزیراعظم کو گرل کیا جائے۔
سینئر صحافی نے کہا کہ شاید خاقان عباسی نے پیش ہوکر وزیراعظم سے متعلق دستاویزات پیش کی تھی۔اور کمیشن سے انہیں پوچھ گچھ کے لئے طلب کرنے کا مطالبہ کیا تھا تاہم تک تحقیقاتی ٹیم وزیراعظم کو طلب کرنے میں تقسیم ہوگئی ہے،قبل ازیں سینئر تجزیہ کار مبشر لقمان نے کہا ہے کہ وزیراعظم آٹا چینی بحران کی انکوائری نیب کو دینے کا فیصلہ کرلیا، جہانگیرترین عید کے بعد کسی اور کے مہمان ہوں گے، جہانگیرترین جیب میں 25ایم این ایز لے کر پھر رہے ہیں، کیا یہ حکومت چھوڑ کر جہانگیرترین کے ساتھ جائیں گے؟ آئندہ دنوں وفاقی کابینہ میں بھی مزید تبدیلیاں ہوں گی۔
انہوں نے اپنے تبصرے میں کہا کہ وزیراعظم عمران خان نے فیصلہ کیا ہے کہ آٹا چینی بحران کی انکوائری نیب کے حوالے کردیں گے۔ اب نیب اس کی تحقیقات کریں گے، عید یا عید کے بعد جہانگیرترین کسی اور کے مہمان ہوں گے، کہا جارہا ہے کہ ان کی جیب میں 25 ا یم این ایز ہیں، کیا وہ چھوڑ کر جہانگیرترین کے ساتھ جائیں گے۔

The young man ran away from the quarantine center as his wife's phone kept ringing

بیوی کا فون مسلسل مصروف جانے پر نوجوان قرنطینہ سینٹر سے بھاگ گیا بھارت، گھر پہنچا تو بیوی فون پر کسی اور شخص سے بات کر رہی تھی...